وفاقی حکومت نے نئی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 30 جولائی سے رات 12 بجے کے بعد نافذ کر دیا گیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 75 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے نجی گاڑی استعمال کرنے والوں اور عام شہریوں کو محدود ریلیف ملے گا۔
دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 390 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں پر عمل درآمد بھی 30 جولائی سے شروع ہو گیا۔
حالیہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں الگ الگ رجحان دیکھنے میں آیا۔ پیٹرول کی معمولی کمی کے باوجود ڈیزل مہنگا ہونے سے تجارتی سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مال بردار ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہونے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
تاجروں اور عوام کی نظریں اب اس بات پر ہوں گی کہ نئی ایندھن قیمتوں کے معیشت، نقل و حمل اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی براہ راست پیداواری لاگت کو متاثر کرتی ہے۔
حالیہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کمی سے اگرچہ محدود ریلیف ملا ہے، تاہم ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث معیشت کے مختلف شعبوں پر اضافی مالی دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔