جرمنی میں گرمی سے اموات کی تعداد رواں سال اب تک تقریباً 9800 تک پہنچ گئی ہے۔ جرمنی کے صحت کے ادارے رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ (RKI) نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا کہ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
آر کے آئی کے مطابق شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ 75 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ہیں۔ بزرگ شہری گرمی کی شدت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں جسمانی درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔
ادارے نے بتایا کہ ایسے ہفتوں میں اموات کی شرح نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے جب اوسط درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ آر کے آئی نے خبردار کیا کہ رواں موسم گرما میں آنے والی ہیٹ ویوز مزید اموات کا باعث بن سکتی ہیں۔
جرمنی کو جون میں بھی شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ نئی گرمی کی شدت نے صحت حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
آر کے آئی نے شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو زیادہ پانی پینے، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنے اور بزرگ افراد کی خصوصی دیکھ بھال کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک کی طرح جرمنی بھی حالیہ برسوں میں غیر معمولی درجہ حرارت کا سامنا کر رہا ہے۔
جرمنی میں گرمی سے اموات میں اضافے نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، صحت عامہ کی منصوبہ بندی اور ہنگامی اقدامات کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ حکام موسم اور اموات کے اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔