اسلام آباد: پاکستان اکنامک سمٹ 2026 کے شرکا نے ملک میں مؤثر طرزِ حکمرانی، معاشی استحکام اور انتظامی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو اہم قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات، پالیسیوں میں تسلسل اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان اور رکن پاکستان بار کونسل احسن بھون نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 1 نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق آئینی طریقۂ کار کے تحت کسی بھی علاقے کو وفاقی علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق صوبائی حدود میں بھی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر انتظامی ڈھانچہ عوامی خدمات کی فراہمی اور بہتر حکمرانی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ سمٹ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کاروباری برادری کو درپیش مسائل پالیسی سازوں تک پہنچانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اختیارات سے متعلق بھی حکومت سے بات چیت ہوئی ہے تاکہ اختیارات کے استعمال میں شفافیت اور توازن برقرار رکھا جا سکے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ نجی شعبے پر اعتماد کیا جائے اور صنعتکاروں کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق اگر برآمدی شعبے کو مناسب سہولتیں اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو پاکستان اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
سمٹ سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے جامع معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروبار دوست پالیسیوں اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہی اقدامات ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش انتظامی مسائل کے حل اور مؤثر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ عوام کو بہتر خدمات اور تیز رفتار ترقی کے ثمرات پہنچائے جا سکیں۔