مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ ایک اہم قانونی پیش رفت کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اسلام آباد کے پیرسوہاوہ میں واقع معروف ریسٹورنٹ سے متعلق یہ فیصلہ ایک طویل عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آیا، جس سے کیس کے آئندہ مراحل کے لیے نئی قانونی سمت متعین ہو گئی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے پہلے سے جاری حکمِ امتناع بھی ختم کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے کے مختلف قانونی اور انتظامی پہلو اب متعلقہ فورمز پر قانون کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جائیداد کی ملکیت سے متعلق معاملات کا حتمی فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹس کریں گی اور وہ کسی سابقہ عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ طور پر شواہد اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کریں گی۔

اسی فیصلے میں عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انتظامی اور ریگولیٹری نوعیت کے معاملات متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ اس طرح عدالت نے ملکیت کے قانونی تنازع اور انتظامی امور کے درمیان واضح فرق بھی بیان کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ زیر التوا مقدمات کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے تاکہ فریقین کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے اور قانونی کارروائی غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سابقہ عدالتی فیصلے میں کئی نکات زیر غور نہیں آئے تھے اور عدالت کسی جذباتی انداز کے بجائے قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ وکیل احسن بھون کی جانب سے عدالت کی تعریف پر جسٹس رضوی نے کہا کہ عدالت صرف سماعت اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق ہی حکم جاری کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین