سیوٹا ہجرتی بحران کے بعد مراکش سے اسپین کے خودمختار شہر سیوٹا پہنچنے والے ہزاروں تارکین وطن کی وطن واپسی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی حکومتیں صورتحال کو قابو میں لانے اور سرحدی انتظامات بہتر بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔
اطالوی قومی ریڈیو RTL 102.5، اطالوی خبر رساں ادارے ANSA اور ہسپانوی خبر رساں ادارے EFE سمیت متعدد بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 30 جولائی کو شروع ہونے والے اس غیر معمولی ہجرتی بحران کے بعد اب تک تقریباً 73 ہزار 500 افراد سیوٹا سے واپس مراکش جا چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سمندر کے راستے سیوٹا پہنچنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 71 ہو گئی ہے۔ امدادی ادارے اور مقامی حکام مسلسل سرچ اور ریسکیو کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سمندری راستوں کی نگرانی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ہسپانوی وزارتِ داخلہ نے مذکورہ تمام اعداد و شمار کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ وزارت کے مطابق سیوٹا میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے 60 ہزار کے درمیان رہی، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 48 ہزار 300 سے زائد افراد اب تک واپس مراکش جا چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال اسپین اور مراکش کے درمیان گزشتہ چند برسوں کے سب سے بڑے ہجرتی بحرانوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی ہجرت، سرحدی نگرانی اور انسانی جانوں کے تحفظ جیسے مسائل دونوں ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

دونوں حکومتیں سرحدی انتظامات، انسانی امداد اور واپسی کے عمل کو منظم بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو معمول پر لانے اور مزید انسانی نقصان سے بچنے کے لیے سفارتی اور انتظامی سطح پر متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔