وینزویلا زلزلے

وینزویلا زلزلے: ہلاکتیں 2,300 کے قریب، بحران شدت اختیار کر گیا

تباہ کن وینزویلا زلزلے کے ایک ہفتے بعد مزید زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 2,300 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ امدادی کارروائیاں اب ملبے تلے زندہ افراد کی تلاش سے بڑھ کر متاثرین کو خوراک، پانی اور پناہ فراہم کرنے پر مرکوز ہو رہی ہیں۔

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ملک بھر میں سات روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم کے لیے انتہائی دردناک ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ شہر لا گوائرا میں بیشتر منہدم عمارتوں پر "D” کا نشان لگا دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں تلاش مکمل ہو چکی ہے مگر کوئی زندہ شخص نہیں ملا۔

اگرچہ چند معجزاتی واقعات بھی سامنے آئے، جن میں چھ روز بعد ملبے سے ایک تین سالہ بچے کو زندہ نکالا جانا شامل ہے، تاہم امدادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مزید زندہ افراد کے ملنے کے امکانات انتہائی کم رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ملبے تلے 72 گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

وینزویلا زلزلے کے باعث ایک بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 ہزار سے زائد افراد زخمی جبکہ تقریباً 13 ہزار بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ تقریباً 50 ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی اور عارضی رہائش کی شدید ضرورت ہے۔ امدادی مراکز پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی قلت نے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں لوٹ مار اور چوری کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے خلاف حکام کارروائیاں کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں وینزویلا میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے لاکھوں متاثرین کو خوراک فراہم کرنے کے لیے ہنگامی فنڈز کی اپیل کی ہے جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور ویکسین سے قابلِ روک تھام بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

وینزویلا زلزلے حالیہ دہائیوں کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ حکام اور عالمی ادارے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، بنیادی سہولیات کی بحالی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحران سے متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین