پاکستان نے پاکستان چین ری فنانسنگ کے تحت 1.3 ارب ڈالر کی رقم جلد فراہم کرنے کے لیے چینی حکام سے باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان ری فنانسنگ کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے لیے رابطے اور مشاورت جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام چینی حکام کے ساتھ قواعد و ضوابط اور دیگر ضروری شرائط کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تمام رسمی مراحل مکمل ہونے کے بعد یہ رقم رواں ماہ کے دوران پاکستان کو موصول ہو سکتی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت کو توقع ہے کہ ری فنانسنگ کی بروقت وصولی سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مضبوط زرمبادلہ ذخائر نہ صرف بیرونی ادائیگیوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ جولائی میں مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی تھیں۔ ان ادائیگیوں میں چین سے حاصل کیا گیا 1.3 ارب ڈالر کا کمرشل قرض بھی شامل تھا، جسے مقررہ وقت پر واپس کر دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ری فنانسنگ کا مقصد پہلے سے واپس کیے گئے قرض کو نئی مالی سہولت کے ذریعے بحال کرنا ہوتا ہے، جس سے حکومت کو فوری مالی دباؤ کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات بیرونی مالی ذمہ داریوں کو منظم انداز میں پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ری فنانسنگ جلد مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مالیاتی مارکیٹ میں مثبت اشارہ جائے گا بلکہ روپے کی قدر اور بیرونی ادائیگیوں کے انتظام میں بھی حکومت کو سہولت مل سکتی ہے۔ تاہم حتمی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔