پی ایس ایکس آج کاروباری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,855 پوائنٹس اضافے کے ساتھ مثبت زون میں بندش کی جانب بڑھا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا۔
پیر کی صبح مارکیٹ میں شاندار آغاز ہوا اور ابتدائی کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2,750 پوائنٹس تک بڑھ گیا۔ صبح 9:34 بجے انڈیکس 178,836.99 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا، جو گزشتہ اختتامی سطح کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔ بعد ازاں کچھ منافع وصولی کے باوجود مارکیٹ مثبت رہی۔
دوپہر 1:35 بجے تک کے ایس ای 100 انڈیکس 177,948.83 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,854.72 پوائنٹس یا 1.05 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ کاروبار کے دوران انڈیکس نے 178,985.94 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی دیکھی، جبکہ مجموعی طور پر 177 ملین سے زائد شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی جن کی مالیت 13.77 ارب روپے رہی۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں چار ڈالر فی بیرل سے زائد کمی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ سفارتی حل کی کوششوں نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات کم کیے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔
کم تیل کی قیمتیں پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں کیونکہ اس سے درآمدی بل میں کمی، مہنگائی پر دباؤ میں کمی اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال بہتر ہونے کی توقع پیدا ہوتی ہے۔ یہی عوامل سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کا سبب بنے۔
کاروباری سرگرمیوں میں سب سے زیادہ خریداری بینکنگ، سیمنٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور سیکٹر کے حصص میں دیکھی گئی۔ مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری نے مارکیٹ کی مجموعی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا۔
پی ایس ایکس آج عالمی حالات میں بہتری کی امید کے باعث نمایاں مثبت رجحان کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ سرمایہ کار آئندہ دنوں میں عالمی تیل کی قیمتوں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ملکی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھیں گے تاکہ مارکیٹ کی آئندہ سمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔