انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر جان ٹرنر نے اچانک پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کا پانچ سالہ پیشہ ورانہ کیریئر اختتام پذیر ہو گیا۔ جان ٹرنر ریٹائرمنٹ کی خبر نے کرکٹ شائقین کو حیران کر دیا، کیونکہ انہیں مستقبل کا ایک باصلاحیت فاسٹ بولر سمجھا جا رہا تھا۔
جان ٹرنر نے 2024 میں انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ مختصر بین الاقوامی کیریئر کے باوجود ان کی رفتار اور صلاحیت نے انہیں مستقبل کے اہم فاسٹ بولرز میں شامل کر دیا تھا۔
تاہم گزشتہ سال جون میں کمر میں اسٹریس فریکچر کا شکار ہونے کے بعد وہ کسی بھی پیشہ ورانہ میچ میں شرکت نہ کر سکے۔ ایک سال سے زائد عرصے تک انجری سے نجات حاصل نہ ہونے کے باعث ان کے لیے کرکٹ میں واپسی انتہائی مشکل ثابت ہوئی۔
معاشیات میں گریجویشن کرنے والے جان ٹرنر کے ہیمپشائر کے ساتھ معاہدے کی مدت ابھی دو سال باقی تھی، جبکہ گزشتہ سال کے اختتام تک وہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ڈویلپمنٹ کنٹریکٹ کا بھی حصہ تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے کھیل سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کیا۔
اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے جان ٹرنر نے کہا کہ مسلسل انجریز، خصوصاً ایک سال سے زیادہ عرصے تک میدان سے دور رکھنے والے اسٹریس فریکچر، نے انہیں بطور کرکٹر اور اپنی ذاتی زندگی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق اب زندگی کے نئے سفر کا آغاز کرنے کا یہی مناسب وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اور ہیمپشائر کی نمائندگی کرنا ان کے بچپن کا خواب تھا، جو حقیقت میں تبدیل ہوا۔ تاہم کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ان کی زندگی کے سب سے مشکل فیصلوں میں سے ایک رہا، لیکن وہ مستقبل کے نئے مواقع کے لیے پُرامید ہیں۔
جان ٹرنر نے 2021 میں ہیمپشائر کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا۔ انہوں نے اپنے پانچ سالہ کیریئر کو زندگی کا یادگار دور قرار دیتے ہوئے کلب انتظامیہ، کوچز، ساتھی کھلاڑیوں، سپورٹ اسٹاف اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔ جان ٹرنر ریٹائرمنٹ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ کھیل میں انجریز کبھی کبھی بہترین کیریئرز کو بھی وقت سے پہلے ختم کر سکتی ہیں۔