ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ

ایران کی خلیجی ممالک کو امریکی فوج کی مدد سے باز رہنے کی وارننگ

ایران نے خلیجی ممالک کو امریکی فوج کی مدد یا سہولت کاری سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی بھی معاونت کو امریکی فوجی کارروائی میں شرکت تصور کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے یہ وارننگ بدھ کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جاری کی۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے یہ انتباہ جاری کیا۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق انہوں نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا کہ امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کے ممکنہ نتائج کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جائے۔

ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ میں خاص طور پر امریکا کو فراہم کی جانے والی مدد اور سہولت کاری کا ذکر کیا گیا ہے۔ تہران کے مطابق بالواسطہ تعاون بھی امریکی فوجی کارروائیوں میں شمولیت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ سے خطے کے ان ممالک پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے جو امریکا کے ساتھ سکیورٹی تعاون رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی علاقائی تنازعات میں براہ راست ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ مزید فوجی کشیدگی سے خطے میں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

علی عبداللہی نے کسی مخصوص خلیجی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ ایران کن مخصوص اقدامات کو فوجی کارروائی میں شرکت تصور کرے گا۔ تاہم ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی فوجی سرگرمیوں اور علاقائی ممالک کے کردار پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تازہ وارننگ خطے کی حساس سکیورٹی صورتحال کو نمایاں کرتی ہے اور امریکی فوجی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی معاونت کے خلاف ایران کا مؤقف واضح کرتی ہے۔ خلیجی ممالک کو اب امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات اور علاقائی کشیدگی کم رکھنے کی کوششوں کے درمیان محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین