نفتالی بینیٹ ایران حزب اللہ

حزب اللہ کے حملے کی صورت میں ایران کو نشانہ بنائیں گے، نفتالی بینیٹ

سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کیا تو وہ ایران کو براہ راست نشانہ بنائیں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بینیٹ نے اسرائیل کی موجودہ دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی بات بھی کی ہے۔

نفتالی بینیٹ نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو اسرائیل کی موجودہ دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی حملے کا جواب صرف تنظیم کے ٹھکانوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایران کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

نفتالی بینیٹ ایران حزب اللہ سے متعلق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل، ایران اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کے ساتھ کسی بڑے تصادم کی صورت میں ایران کو براہ راست نشانہ بنانے کی پالیسی علاقائی جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتی ہے۔

بینیٹ نے قطر کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور اسے ممکنہ طور پر ’’دشمن ریاست‘‘ قرار دینے کی بات کی۔ انہوں نے غزہ میں ترکی اور قطر کے کردار کو ختم کرکے مصر کو زیادہ اہم کردار دینے کی تجویز بھی پیش کی۔

سابق اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ میں اسرائیل کو مکمل فوجی کارروائی کی آزادی برقرار رکھنے کی حمایت بھی کی۔ ایسی پالیسی غزہ کے مستقبل اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں شامل علاقائی اور عالمی فریقین کے ساتھ مزید اختلافات پیدا کر سکتی ہے۔

بینیٹ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ دوسری جانب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کو یورپ کے بعض علاقوں میں ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کے آپشنز پر بھی غور کیا ہے۔

ایران، حزب اللہ اور غزہ سے متعلق تازہ بیانات مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سکیورٹی تنازعات کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ حزب اللہ کے کسی حملے کے بعد ایران کے خلاف براہ راست اسرائیلی کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور وسیع تر جنگ کے خدشات پیدا کر سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین