اسرائیل کا شامی ایئربیس پر حملہ شمال مغربی شام میں ترکی کی ممکنہ فوجی تعیناتی کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے دوران ہوا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق کارروائی کا مقصد ابو ظہور ایئربیس پر ترک فوج کی موجودگی کو روکنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بدھ کو ادلب صوبے میں واقع ابو ظہور ایئربیس کے رن وے کو آٹھ حملوں میں نشانہ بنایا۔ حملوں سے ایئربیس کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے نے شام کی موجودہ سکیورٹی صورتحال میں ایک نیا تنازع پیدا کردیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ترکی کو ایئربیس پر فوج تعینات کرنے کی اجازت دے کر شام طے شدہ سکیورٹی صورتحال کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق شام کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ ترک فوج کی تعیناتی اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسرائیل کا شامی ایئربیس پر حملہ شام نے مسترد کردیا۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کارروائی کو بلاجواز اشتعال انگیزی اور شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دمشق نے اسرائیل کی جانب سے حملے کے لیے پیش کی گئی سکیورٹی وجوہات کو قبول نہیں کیا۔
ترکی نے بھی اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انقرہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے خلاف اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر زیادہ واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب شام کے مستقبل کے حوالے سے ترکی اور اسرائیل کے مفادات میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ترکی شام کی عبوری حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور شامی فوج کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔ شام میں انقرہ کے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث اسرائیل کے ساتھ اس کے اختلافات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
ابو ظہور ایئربیس پر حملہ اسرائیل اور ترکی کے تعلقات پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے اور شام کے مستقبل کے سکیورٹی انتظامات سے متعلق غیر یقینی صورتحال بڑھا سکتا ہے۔ شام میں مختلف علاقائی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی کے باعث فوجی تعیناتیوں اور سکیورٹی انتظامات پر اختلافات مزید کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔