ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ میں مزید کشیدگی کی صورت میں یورپ میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تہران تنازع کو مشرق وسطیٰ سے باہر پھیلانے کے ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے ایرانی حکومت کے قریب دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی فورسز نے جنوب مشرقی یورپ میں موجود امریکی فوجی اہداف کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلغاریہ بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہے، جہاں گزشتہ ماہ امریکی ری فیولنگ طیاروں کے لیے بیزمر ایئربیس کے استعمال کی منظوری دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق قبرص کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ اگر امریکا نے ایرانی تنصیبات کے خلاف دوبارہ کارروائی کی تو تہران تنازع کو مزید وسیع کرنے کے لیے مختلف آپشنز تیار کر رہا ہے۔
ایران یورپ میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات کو ممکنہ جوابی کارروائی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی فوجی حکام پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے والے فوجی اڈوں کو ممکنہ ہدف تصور کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی فورسز نے مزید کشیدگی کی صورت میں آبنائے ہرمز میں زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز کو نشانہ بنانے کے امکان کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایسی کسی کارروائی سے اہم مواصلاتی نظام اور عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوبارہ بات چیت کے امکانات بھی کم ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات یا بات چیت جاری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی طے شدہ ہے۔
رپورٹ میں عسکری ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو جنوبی اور جنوب مشرقی یورپ کے بعض علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم زیادہ فاصلے پر ان کی مؤثریت اور درستگی متاثر ہو سکتی ہے۔ تازہ پیش رفت خطے سے باہر تنازع پھیلنے کے ممکنہ خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔