سپریم کورٹ نے عمران خان اسپتال منتقلی سے متعلق پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست اعتراضات دور ہونے کے بعد رجسٹر کرلی۔ رجسٹرار آفس نے درخواست کو کیس نمبر 8/2026 الاٹ کردیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد درخواست اب سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے پیش کی جاسکے گی۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پہلے ہی اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ درخواست عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے دائر کی تھی۔ درخواست میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کرنے کے فیصلے پر اعتراض کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
رجسٹرار آفس نے ابتدائی طور پر درخواست پر بعض اعتراضات اٹھا کر اسے واپس کردیا تھا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق ایک اعتراض یہ تھا کہ مبینہ توہین کے ذمہ دار افراد کو الزامات کی فہرست فراہم نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے کیس کی جلد سماعت کی درخواست بھی کی ہے اور اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔
اعتراضات دور ہونے کے بعد عمران خان اسپتال منتقلی کیس میں قانونی کارروائی آگے بڑھنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو فریق بنایا گیا ہے۔
حکومت نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز منتقل کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ ان خدشات میں شفا اسپتال جانے والے راستے اور اسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی سے متعلق مسائل بھی شامل تھے۔
حکومت نے عمران خان کو دوران حراست طبی سہولیات نہ ملنے یا غیر انسانی سلوک کے الزامات بھی مسترد کیے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کو طبی اور قانونی سہولیات دستیاب ہیں اور متعدد میڈیکل بورڈز ان کا معائنہ کرچکے ہیں۔ حکومت کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹرز بھی پمز میں ہونے والے طبی معائنے کے دوران موجود تھے۔
عظمیٰ خان نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کی جسمانی حالت پہلے سے بہتر ہے، تاہم انہوں نے جیل میں درپیش حالات پر تشویش ظاہر کی۔ پی ٹی آئی نے معاملے پر قانونی جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ درخواست رجسٹر ہونے کے بعد سپریم کورٹ اب عمران خان اسپتال منتقلی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرسکتی ہے۔