بنگلہ دیش نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ معاہدہ حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ ترک سرکاری میڈیا نے منگل کو اس پیش رفت کی اطلاع دی۔
بنگلہ دیش کے نئے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ معاہدے کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور کوئی حتمی پالیسی فیصلہ نہیں ہوا۔
ہمایوں کبیر کے مطابق مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے مسلم ممالک بنگلہ دیش کے ساتھ رابطے بڑھا رہے ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے دفاعی اور معاشی تعاون کے مختلف مواقع پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر مملکت نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان کسی سکیورٹی معاہدے میں شمولیت غیر معمولی بات نہیں ہوگی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا معاملہ ابھی ابتدائی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے طے کیا تھا۔ اس کا مقصد اجتماعی دفاع، علاقائی امن اور سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اجتماعی دفاع کے حوالے سے نیٹو کے اصول سے ملتی جلتی ہے اور ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔
معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں دفاعی تعاون بڑھانے کی بھی گنجائش فراہم کرتا ہے اور بنیادی اصول تسلیم کرنے والے دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔ بنگلہ دیش کی دلچسپی خطے کے بدلتے سکیورٹی ڈھانچے میں نئی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، تاہم شمولیت کے لیے مزید مشاورت اور باضابطہ فیصلہ ضروری ہوگا۔