موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بی 3 کر دی ہے، جس کے بعد حکومت کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی قرض ریٹنگ سی اے اے 1 سے بڑھ کر بی 3 ہوگئی ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم رکھا۔ موڈیز کے مطابق بہتر حکمرانی، بیرونی حالات اور مالی کارکردگی نے فیصلے میں کردار ادا کیا۔
موڈیز نے کہا کہ اگست 2025 کے جائزے کے بعد پاکستان کے بیرونی مالی خطرات میں مزید کمی آئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں اور معاشی استحکام بہتر ہوا ہے۔ شرح سود میں نرمی سے ملکی قرض کی لاگت کم ہوئی۔ بہتر مالی پوزیشن نے حکومت کی قرض ادائیگی کی صلاحیت بھی مضبوط کی ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق حکمرانی میں بہتری حکومت کو بیرونی شعبے میں حاصل پیش رفت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ موڈیز نے کہا کہ پاکستان کا کریڈٹ پروفائل بیرونی جھٹکوں کے خلاف پہلے سے زیادہ لچکدار ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع کے باوجود یہ لچک برقرار رہی۔
موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بی 3 کرتے ہوئے آؤٹ لک مستحکم رکھنے کی وجہ ترقی اور خطرات دونوں کو قرار دیا۔ ایجنسی کے مطابق کریڈٹ عوامل میں تیزی سے بہتری ممکن ہے۔ تاہم بیرونی کمزوریاں برقرار رہنے سے غیر ملکی کرنسی کی مالی معاونت تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے اور حکومت کی مالی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔
اپ گریڈ کے باوجود موڈیز نے پاکستان کے کریڈٹ پروفائل میں اہم کمزوریاں برقرار رہنے کی نشاندہی کی۔ ملک کی بیرونی مالی پوزیشن ساختی طور پر کمزور ہے، جبکہ قرض کی ادائیگی کی صلاحیت محدود ہے۔ آمدنی کا دائرہ بھی کم ہے۔ سرمایہ کاری اور زیادہ پیداوار والی معاشی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں موجود ہیں۔
تازہ فیصلے کا اطلاق پاکستان گلوبل صکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کی غیر ملکی کرنسی میں غیر محفوظ قرض ریٹنگ پر بھی ہوتا ہے، جسے سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کیا گیا ہے۔ موڈیز کے مطابق ادائیگی کی ذمہ داریاں براہ راست حکومت پاکستان کی ہیں۔ صکوک پروگرام کا آؤٹ لک بھی مستحکم ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی کرنسی کی کنٹری سیلنگز بھی بڑھا دی ہیں۔ مقامی کرنسی کی حد بی 2 سے بی 1، جبکہ غیر ملکی کرنسی کی حد سی اے اے 1 سے بی 3 کردی گئی۔ پاکستان کی ریٹنگ بی 3 کرنا ذخائر، مالی حالات اور قرض ادائیگی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مستحکم آؤٹ لک باقی خطرات پر توجہ کی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔