آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان اہم مذاکرات، خطے میں کشیدگی برقرار

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق اہم مذاکرات آج متوقع ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں سمندری سلامتی، تجارتی جہاز رانی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی تہران کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں آبنائے ہرمز کی صورتحال اہم موضوع ہوگی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد سے متعلق امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں ایسی اطلاعات کے ذریعے رائے عامہ اور عالمی مارکیٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے عملی طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی انتظام میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

دوسری جانب ایران نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین یا سہولیات استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بلغاریہ کی جانب سے امریکی طیاروں کو ری فیولنگ کی سہولت فراہم کرنے پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی امریکہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران پر مسلسل اقتصادی دباؤ اور پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی ماضی میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکی اور آئندہ بھی اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین