اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل سے جاری ہیں، جس میں دونوں ممالک خطے کے تنازع کے حل پر بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا میں جاری قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کے فروغ اور خطے میں استحکام کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ امریکہ نے ایران کو 15 نکات پر مشتمل منصوبہ بھیجا ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے۔ اس دوران ترکی اور مصر جیسے بھائی ممالک بھی اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔ ڈار نے زور دیا کہ بات چیت اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں اور پاکستان ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ امن قائم رہے۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکی اور ایرانی نمائندے مذاکراتی چینل کے ذریعے بات کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی مذاکرات کاروں پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا تذکرہ کیا، تاہم ایران نے امریکی تجاویز کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا بلکہ جائزہ لے رہا ہے۔
There has been unnecessary speculation in the media regarding peace talks to end ongoing conflict in the Middle East. In reality, US-Iran indirect talks are taking place through messages being relayed by Pakistan. In this context, the United States has shared 15 points, being…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 26, 2026
اطلاعات کے مطابق اس 15 نکاتی منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، حوثیوں، حماس اور حزب اللہ کی حمایت روکنے، اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ بدلے میں ایران پر پابندیاں نرم کرنے اور توانائی کے لیے جوہری سہولیات میں مدد فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازع کے جامع حل کے لیے پاکستان ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا اور تمام متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے گا۔