پاکستان ایل این جی درآمدات

قطر سے ایل این جی کی مسلسل تیسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اسلام آباد: پاکستان کی توانائی سپلائی چین کو اس وقت اہم سہارا ملا جب قطر سے آنے والا ایل این جی ٹینکر ’’فویرت‘‘ حساس آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہوگیا۔

حکام کے مطابق یہ جہاز آج (منگل) یا کل (بدھ) 26 یا 27 مئی 2026 کو اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگا۔

پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور ایل این جی جہاز بھی آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچنے والا ہے، جو پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (پی جی پی ایل) کے ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان شدید گرمیوں کے باعث بڑھتی ہوئی بجلی طلب کو پورا کرنے اور خلیجی خطے میں کشیدہ صورتحال کے باوجود ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کررہا ہے۔

’’فویرت‘‘ کی آمد دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں قطر سے آنے والی تیسری مسلسل ایل این جی کھیپ ہے۔

اس سے قبل 15 مئی کو ’’مِہزم‘‘ نامی ایل این جی بردار جہاز تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مکعب میٹر مائع قدرتی گیس لے کر پورٹ قاسم کے پی جی پی ایل ٹرمینل-2 پر پہنچا تھا۔ اس سے دو روز قبل 13 مئی کو ’’الخرائطیات‘‘ نامی کیو فلیکس ایل این جی جہاز اینگرو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا تھا۔

توانائی شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل ایل این جی کھیپوں کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اس وقت قطر کے ساتھ طویل المدتی ایل این جی معاہدوں پر زیادہ انحصار کررہا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، شپنگ خطرات اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی کے باعث تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین