عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار ہے۔
دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ تقریباً 93 ڈالر فی بیرل میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔
مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق عالمی سپلائی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی تیل کی قیمتوں میں اس اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ ہیں۔
اسی دوران یو اے ای مربن خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو 6 فیصد اضافے کے بعد 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
توانائی مارکیٹ میں اس تیزی کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے، جہاں مہنگائی کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری بینک Goldman Sachs نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں امریکی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
گولڈمن ساکس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکا میں ہر ماہ تقریباً 10 ہزار افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے، جو معاشی سست روی کی علامت ہو سکتا ہے۔