امریکا پیٹرول قیمت

امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز

امریکا میں پیٹرول کی قیمت تین سال بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔

گیس بتی کے مطابق حالیہ دنوں میں پیٹرول کی اوسط قیمت اس سطح تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے قبل اگست 2022 میں یوک*رین پر روسی حملہ  کے بعد قیمتوں میں اسی طرح اضافہ دیکھا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز  کی بندش ہے، جو دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس راستے کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

پیٹرول پمپ مالکان نے ملک بھر میں اسٹیشن بند کرنے کی دھمکی دے دی

یہ صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ انہوں نے توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور مقامی پیداوار بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔

امریکی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کچھ نرمی برتتے ہوئے تیل بردار جہازوں کو جزوی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سے فوری طور پر قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔

1 comment on “امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے