ایران جنگ سے امریکی انخلا

ٹرمپ کی ایران جنگ سے امریکی انخلا کی ممکنہ نشاندہی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اشارہ دیا کہ امریکہ جلد ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اپنی شمولیت کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ سے امریکی انخلا دو سے تین ہفتوں میں ممکن ہے، چاہے تہران کے ساتھ کوئی رسمی معاہدہ نہ ہو۔

سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے صدر کے خیالات کی تائید کی اور کہا کہ واشنگٹن “ختم ہونے کی لکیر دیکھ سکتا ہے” اور ایرانی رہنماؤں سے براہ راست مذاکرات مستقبل قریب میں ممکن ہیں۔ یہ اعلان امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کے باوجود، مشرق وسطیٰ میں حملے جاری ہیں۔ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملوں نے ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگا دی، جبکہ قطر کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر پر میزائل حملہ ہوا۔ بحرین میں بھی متعدد فیکٹریوں میں آگ لگی۔

امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں تہران میں دھماکے اور شاہید حقانی بندرگاہ پر حملے شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہری حکومت کے حق میں ریلیاں نکال رہے ہیں، جو ملکی حوصلے کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ تنازع ایران سے آگے بڑھ گیا ہے، یمن کے حوثی میزائل حملوں میں اسرائیل پر حزب اللہ اور ایران کے حمایتی گروپوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے حملوں کو روکا، جبکہ لبنان میں انسانی نقصان اور تباہی میں اضافہ ہوا۔

ممکنہ ایران جنگ سے امریکی انخلا کے اقتصادی اثرات بھی اہم ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی اور عالمی مارکیٹوں میں اضافہ ہوا۔ امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور توانائی کی رکاوٹیں تشویش کا باعث ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کا اعلان تنازعہ کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے، صورتحال ابھی غیر مستحکم ہے۔ خلیجی ریاستیں ایران کی علاقائی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی بات کر رہی ہیں اور امریکی انخلا کی صورت میں استحکام اور اہم آبی راستوں جیسے ہرمز کے تنگ راستے کی حفاظت ضروری ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے