عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 6.8 فیصد بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 6.4 فیصد اضافے کے ساتھ 106.52 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تسلسل کا عندیہ دیا۔
قوم سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اپنے اہداف کے حصول کے “بہت قریب” ہے، تاہم انہوں نے جنگ بندی یا سفارتی حل کے حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن فراہم نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق، صدر کی تقریر میں سفارتی کوششوں کا ذکر نہ ہونا سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا سمندری راستوں کو خطرات لاحق ہوئے تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
دریں اثنا، توانائی کی ترسیل پر بھی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ بدھ کے روز اطلاعات سامنے آئیں کہ قطر انرجی کے زیر استعمال ایک آئل ٹینکر کو قطری پانیوں میں ایرانی کروز میزائل کا نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
رائسٹاڈ انرجی کے چیف اکنامسٹ کلاڈیو گلیمبرٹی کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی متاثر ہوئی تو اس کے اثرات اپریل سے یورپ کی معیشت پر بھی پڑنا شروع ہو سکتے ہیں، اگرچہ پہلے سے طے شدہ سپلائیز وقتی ریلیف فراہم کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ اس وقت غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے اور کسی واضح حل تک تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔