افغانستان میں رواں سال 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب دہشتگردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکام اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق آپریشن نے ملک بھر میں مؤثر اثر ڈالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ "سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز” کے مطابق مارچ میں پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات فروری کے مقابلے میں 59 فیصد کم ہوئے۔ رپورٹ میں اس کراس بارڈر آپریشن کی مؤثر اور مربوط حکمت عملی کو نمایاں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے تین ماہ میں مجموعی طور پر دہشتگردی کے واقعات میں 18 فیصد کمی دیکھی گئی، جو ملک میں قومی سلامتی میں مستحکم بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے دہشتگردی میں 57 فیصد کمی ہوئی۔ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی دہشتگردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس سے آپریشن کی کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی ہلاکتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ اقدامات مربوط، مؤثر اور مہلک ثابت ہوئے، اور شہریوں پر حملوں میں کمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ دہشتگرد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں نہتے شہریوں پر حملے کرنے کی کوشش کرتے رہے، جس سے انتباہ رہنے اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کی ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔
حکام نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کی نگرانی جاری رہے گی اور ضرورت کے مطابق اسے مزید مضبوط بنایا جائے گا، تاکہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔