ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور توانائی بحران کے پیش نظر وفاقی حکومت نے بچت پالیسی کے تحت مزید سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان اقدامات میں اہم تجویز یہ ہے کہ 6 اپریل سے ملک بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں تاکہ بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور توانائی کے وسائل پر دباؤ کم ہو۔
حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد سے پہلے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرے گی۔ اس حوالے سے وزیراعظم، چاروں وزرائے اعلیٰ اور دیگر اہم قومی اداروں کے درمیان بات چیت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا تاکہ پورے ملک میں یکساں پالیسی اپنائی جا سکے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی تنازعات کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور وہ کفایت شعاری کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی پہلے ہی ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ ان میں ہفتہ کو اسکولوں کی تعطیل، سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال میں کمی اور دیگر توانائی بچانے کے اقدامات شامل ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ اس اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کا اثر عوام اور کاروباری طبقے پر پڑے گا۔