ایم 5 موٹر وے

ایم 5 موٹر وے پر 200 کلومیٹر تک کیمرے چوری، سکیورٹی پر سوالیہ نشان

سندھ میں ایم 5 موٹر وے ایک بار پھر بدانتظامی کا شکار ہو گئی ہے، جہاں سکھر سے رحیم یار خان تک تقریباً 200 کلومیٹر کے علاقے میں جدید نگرانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے نے سرکاری اداروں کی کارکردگی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس روٹ پر نصب جدید سرویلینس کیمرے، اسپیڈ کیمرے، سولر پلیٹس، اسٹریٹ لائٹس اور پولز نامعلوم افراد، جنہیں مقامی طور پر کچے کے ڈاکو کہا جاتا ہے، چوری کر کے لے گئے۔ اس سے نہ صرف سکیورٹی متاثر ہوئی بلکہ ٹریفک مانیٹرنگ کا نظام بھی مفلوج ہو گیا ہے۔

خاص طور پر Ghotki District کے جہان خان جنگل کے اطراف صورتحال زیادہ سنگین بتائی جا رہی ہے، جہاں کیمروں کے ساتھ ساتھ ان کے پولز تک اکھاڑ لیے گئے۔ مزید برآں، پولیس کی سکیورٹی چوکیوں کی چھتیں بھی غائب پائی گئیں، جس سے نگرانی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نہ تو روشنی کا مناسب انتظام باقی ہے اور نہ ہی ریفلیکٹرز فعال ہیں۔ سروس ایریاز کی اسٹریٹ لائٹس بند ہیں جبکہ حال ہی میں نصب کیے گئے سولر ریفلیکٹرز بھی بڑی حد تک ناکارہ ہو چکے ہیں۔

کیمروں کی چوری یا خرابی کے باعث موٹر وے پولیس کو پرانے طریقہ کار پر واپس آنا پڑا ہے، جہاں اہلکار سڑک کنارے اسپیڈ گن رکھ کر جرمانے کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ اہم شاہراہ مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے