پاکستان کرپٹو ٹیکس

حکومت کا کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد ٹیکس عائد کرنے پر غور

حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں پاکستان کرپٹو ٹیکس نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کو باقاعدہ قانونی اور ٹیکس فریم ورک میں شامل کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور محصولات میں اضافے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کرپٹو ٹیکس پالیسی کی تشکیل میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والی مشاورت بھی شامل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیجیٹل کاروباروں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنا مالیاتی اصلاحات کے اہم نکات میں شامل ہے۔

مجوزہ فریم ورک کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37 میں ترمیم کی جا سکتی ہے تاکہ کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع کو باقاعدہ طور پر قابلِ ٹیکس آمدن قرار دیا جا سکے۔ اس اقدام سے ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے منافع کی قانونی درجہ بندی واضح ہو جائے گی۔

اس سلسلے میں ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی نے بھی مختلف ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں۔ حکام کے مطابق ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کرپٹو صارفین کی تعداد، لین دین کے حجم اور ممکنہ ٹیکس وصولی کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔

حکومت ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دے کر انہیں ایک منظم مالیاتی نظام کے تحت لانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اس سے ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال کو باقاعدہ قانونی تحفظ اور نگرانی فراہم کی جا سکے گی۔

اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان کرپٹو ٹیکس پالیسی ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد شفافیت بڑھانا، ٹیکس وصولی کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی مالیاتی معیارات سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین