کوہستان کرپشن کیس

کوہستان کرپشن کیس: نیب نے 6 ارب روپے کے اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے

کوہستان کرپشن کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قومی احتساب بیورو (نیب) نے برآمد کیے گئے 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے۔ یہ واپسی وسیع پیمانے پر جاری ریکوری عمل کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

کوہستان کرپشن کیس کی تحقیقات کا آغاز اپریل 2024 میں ہوا تھا جب نیب نے اپر کوہستان میں سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے حوالے سے انکوائری کی منظوری دی۔ بعد ازاں تحقیقات میں خزانے سے متعلق مالیاتی طریقہ کار میں مبینہ بے ضابطگیوں اور فنڈز کی خرد برد کے شواہد سامنے آئے۔

نیب کے مطابق تحقیقات کے دوران 37 ارب روپے سے زائد مالیت کے مالی معاملات کا سراغ لگایا گیا۔ نیب خیبرپختونخوا اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کئی ماہ تک مالی ریکارڈ، بینک کھاتوں اور اثاثوں کی تفصیلی جانچ پڑتال کی۔

تقریب کے دوران نذیر احمد نے برآمد شدہ اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندوں کے حوالے کیے۔ ان اثاثوں میں نقد رقم، قیمتی دھاتیں، لگژری گاڑیاں، تجارتی جائیدادیں اور رہائشی املاک شامل ہیں۔

حکام کے مطابق کوہستان کرپشن کیس میں پیچیدہ مالی لین دین کا جال استعمال کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران 1500 سے زائد بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ فرانزک مالیاتی تجزیے کے ذریعے مختلف مالی راستوں کا سراغ لگایا گیا۔

تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سرکاری ٹھیکیدار ممتاز خان سے منسلک ایک اکاؤنٹ کی نشاندہی ہوئی۔ ریکارڈ کے مطابق اس اکاؤنٹ کے ذریعے تقریباً 17 ارب روپے کے لین دین کا انکشاف ہوا، جس کے بعد نیب نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ اثاثے منجمد کر دیے۔

نیب کا کہنا ہے کہ کوہستان کرپشن کیس میں 27 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں جبکہ 10 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں پلی بارگین کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ کارروائی عوامی وسائل کے تحفظ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے احتساب کی ایک اہم مثال ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین