امریکی سفارتخانہ سعودی عرب حملہ

سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے، شدید نقصان رپورٹ

سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کو ایرانی ڈرون حملوں سے شدید نقصان پہنچا، امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق۔ حملوں سے عمارت اور اس کے محفوظ حصے نشانہ بنے اور لگنے والی آگ کو بجھانے میں آدھا دن لگا۔

رپورٹس کے مطابق ایک ڈرون عمارت سے ٹکرایا اور سوراخ پیدا ہوا، جس کے ایک منٹ بعد دوسرا ڈرون بھی اسی جگہ لگا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ابتدائی دعوؤں کے برعکس نقصان بہت زیادہ تھا۔

سفارتخانے کے تین فلورز شدید متاثر ہوئے اور عمارت میں موجود سی آئی اے اسٹیشن بھی نشانہ بنا۔ چند گھنٹے بعد مزید ڈرون بھی داغے گئے، جنہیں میزائل دفاعی نظام نے روکا۔

سفارتخانے کے قریب ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار کی رہائش بھی خطرے میں تھی، جو حملوں کی درستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ یہ حملے ایران کی ریاض میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ظاہر کرتے ہیں۔

سابق سی آئی اے اہلکار برنارڈ ہڈسن کے مطابق ایران نے پہلے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں ایواکس اور ری فیولنگ طیارے نشانہ بنائے گئے۔ تازہ حملے سے ظاہر ہوا کہ امریکی میزائل دفاع ناکام رہا۔

ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی لڑاکا طیارے A-10، F-15 اور F-35 کو بھی نشانہ بنایا جبکہ کویت میں امریکی ہیلی کاپٹر کو بھی تباہ کیا۔ یہ دعوے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

امریکی میڈیا نے مارکو روبیو کو نقصان کے دائرے کو کم ظاہر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ حملے خطے میں ایران کے خطرات اور امریکی سکیورٹی اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے