ایران امریکا عارضی جنگ بندی کی بات چیت میں ایک بڑا رخنہ آیا ہے کیونکہ تہران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ سینئر ایرانی ذرائع نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے پیشگی شرائط پوری کرنا لازمی ہیں۔ ایران نے مذاکرات میں شامل ہونے سے پہلے واضح مطالبات رکھے ہیں۔
ان شرائط میں حملے روکنا، مستقبل میں جارحیت کی ضمانت، اور گزشتہ نقصان کا معاوضہ شامل ہے۔ تہران کے مطابق یہ اقدامات اعتماد قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ادھر پاکستان نے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ جامع جنگ بندی کا فریم ورک شیئر کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور مزید تنازعات کو روکنا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران مستقبل میں کسی مستقل امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر باقاعدہ فیس عائد کرنے کا حق چاہتا ہے۔ یہ تمام جہازوں پر لاگو ہوگی۔
فیس جہاز کی قسم، اس کے کارگو (تیل، گیس یا دیگر سامان) اور حالات کے مطابق مختلف ہوگی۔ یہ اقدام عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گذرگاہوں میں سے ایک ہے۔ ایران کے کسی بھی فیصلے کے عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور جیوپولیٹیکل استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔