آبنائے ہرمز کشیدگی

ترکیہ کا آبنائے ہرمز پر نئے قواعد پر تحفظات

آبنائے ہرمز کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ترکیہ نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے متعلق نئے قواعد پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق کسی بھی نئے نظام کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اور سفارتی طریقے سے طے کیا جانا چاہیے۔

آبنائے ہرمز کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب حالیہ ایران امریکا مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی۔

حاکان فیدان نے کہا کہ وہ امریکا، ایران اور ثالث ملک پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی فورس کے ذریعے اس آبی گزرگاہ کی نگرانی کے خیال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کشیدگی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیلی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

ترکیہ نے زور دیا کہ خطے میں استحکام کے لیے صرف سفارت کاری ہی واحد پائیدار راستہ ہے اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے