امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں

اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بننے کو تیار

اطلاعات کے مطابق امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں ایک بار پھر اس ہفتے کے آخر میں شروع ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ پانچ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ وفود دوبارہ پاکستان آنے پر غور کر رہے ہیں۔

ایک ذریعے کے مطابق ابھی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، تاہم جمعہ سے اتوار کا وقت ممکنہ طور پر زیر غور ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں کے لیے رابطے مسلسل جاری ہیں۔

ایرانی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ اگرچہ شیڈول فائنل نہیں ہوا، لیکن مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی موجود ہے۔ اس سے امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

پاکستانی حکام دونوں فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اگلے مرحلے کا وقت طے کیا جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل ہونے والے مذاکرات کئی سال بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم براہ راست رابطہ تھے، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں جیسے اہم امور پر بات ہوئی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی وفد کی قیادت کی اور مذاکرات کے بعد اسے “حتمی اور بہترین تجویز” قرار دیا، جبکہ ایران سے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں کو اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور پاکستان کے ثالثی کردار کو کلیدی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے