پاکستان کے مالی ذرائع پر حکومت نے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے دباؤ کو بہتر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت یورو بانڈز، کمرشل قرضوں اور دیگر بین الاقوامی مالی ذرائع پر غور کر رہی ہے تاکہ متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے بعد صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔ اس عمل میں پاکستان کے مالی ذرائع کو اہم حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس ماہ یو اے ای کا قرض واپس کرے گا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر وقتی دباؤ آ سکتا ہے، تاہم حکومتی حکمت عملی کے تحت پاکستان کے مالی ذرائع سے صورتحال کو متوازن رکھا جائے گا۔
حکام کے مطابق اسلامی سکوک اور چینی کرنسی میں پانڈا بانڈز بھی زیر غور ہیں، جو مستقبل میں مالی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کے مالی ذرائع کا حصہ ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کو کور کر سکتے ہیں، جسے برقرار رکھنا اقتصادی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت توانائی کے شعبے میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے اور قابل تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی پر بھی غور کر رہی ہے، جو پاکستان کے مالی ذرائع کو مزید مضبوط بنائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔