پنجاب حکومت نے کسانوں کیلئے بڑا ریلیف پیکج اعلان کیا ہے، جس کے تحت پنجاب گندم کسان ریلیف پروگرام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا کہ گندم کے کاشتکاروں کو 6 ارب روپے مالیت کا مفت باردانہ فراہم کیا جائے گا۔ رجسٹرڈ کسانوں کو فی ایکڑ 10 بوریاں دی جائیں گی، جس سے پنجاب گندم کسان ریلیف میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے فوری طور پر خریدی جائے تاکہ کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ یہ فیصلہ پنجاب گندم کسان ریلیف کے تحت اہم قدم ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کسانوں کو گندم کی ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر یقینی بنائی جائے گی، جبکہ صوبائی اور ڈویژنل سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی۔
کسان کارڈ ہولڈرز کو گندم خریداری میں ترجیح دی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے کسانوں کو مالی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جو پنجاب گندم کسان ریلیف کا حصہ ہے۔
مزید یہ کہ “ورک ود پنجاب گورنمنٹ” پروگرام کے تحت زرعی گریجویٹس کو انٹرن شپ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ شعبہ زراعت کو جدید بنایا جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم اور زرعی میکانائزیشن سے مقامی صنعت کو فروغ مل رہا ہے، جبکہ ہزاروں ٹریکٹر کسانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں، جو پنجاب گندم کسان ریلیف کو مزید مؤثر بناتا ہے۔