پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس مارچ 2026 میں ایک اہم سطح پر پہنچ گیا، جب ملک نے 1.07 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا۔ یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جو معیشت میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں یہ اضافہ گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ (9MFY26) میں مجموعی بیلنس 174 ملین ڈالر سرپلس میں آ گیا ہے، جبکہ پہلے آٹھ ماہ (8MFY26) میں 896 ملین ڈالر خسارہ تھا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں بہتری کی بڑی وجوہات میں درآمدات میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافہ شامل ہیں۔ اشیاء اور خدمات کے خسارے میں کمی نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کیا۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافہ ہوا ہے، جو معیشت کے لیے اہم سہارا ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ ترسیلات زر زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے فروری 2026 کے اعداد و شمار میں بھی نظرثانی کی ہے، جس کے مطابق سرپلس کو 427 ملین ڈالر سے کم کر کے 231 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مجموعی رجحان مثبت ہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کو برقرار رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور ترسیلات زر کا تسلسل ضروری ہوگا۔ درآمدات میں اچانک اضافہ اس توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر مارچ کے اعداد و شمار پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہیں۔ حکومت اور پالیسی ساز اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتے ہیں۔