آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات

ٹرمپ کا آرمی چیف عاصم منیر سے مشاورت کا امکان، آبنائے ہرمز بحران پر اہم پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات کے حوالے سے مشورہ لینے پر غور کیا ہے، ایک پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے۔ یہ گفتگو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی حساسیت کے دوران سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں ٹرمپ نے عاصم منیر کی رائے کو سنا، جس میں آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات کے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل پر ممکنہ اثرات پر بات کی گئی۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس کی بندش یا خطرہ عالمی توانائی کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستانی عسکری قیادت نے مبینہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ اس سمندری راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی منڈی متاثر ہو سکتی ہے، اور آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

اگرچہ واشنگٹن اور اسلام آباد نے اس گفتگو کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے عاصم منیر کی رائے پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات کے تناظر میں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی کشیدگی سے عالمی سیاست اور تیل کی قیمتوں پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے، اسی لیے آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات کو انتہائی اہم سفارتی معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ مشاورت مستقبل میں امریکہ کی ایران پالیسی اور خطے میں کردار کو متاثر کرے گی، خاص طور پر آبنائے ہرمز بلاکیج امن مذاکرات کے حوالے سے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے