ایران کا دوٹوک مؤقف

ایران کا دوٹوک مؤقف، دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات ناقابل قبول

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

قالیباف نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد مذاکرات کی بات کرنا تضاد کا شکار رویہ ہے، اور اس طرح کے اقدامات اعتماد سازی کے بجائے کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوششیں ناکام ہوں گی اور ایسے حالات میں مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ امریکا کو اپنے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات ترک کرنا ہوں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں اور موجودہ بحران کا واحد راستہ سفارتکاری اور بامعنی مذاکرات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے