روس میں اسرائیلی شہریوں کی حراست کا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے تصدیق کی کہ تقریباً 40 اسرائیلی شہریوں کو ماسکو ایئرپورٹ پر عارضی طور پر روک کر پوچھ گچھ کی گئی۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق یہ واقعہ ماسکو کے ڈوموڈیڈوو ایئرپورٹ پر پاسپورٹ کنٹرول کے دوران پیش آیا، جہاں مسافروں کو تقریباً پانچ گھنٹے تک روسی حکام نے روکے رکھا۔
رپورٹس کے مطابق حکام نے مسافروں کے موبائل فونز کی بھی جانچ کی اور ایران اسرائیل تنازع سے متعلق سوالات کیے، جس پر مسافروں میں تشویش پائی گئی۔
کہا گیا کہ روسی حکام نے بعض مسافروں کو بتایا کہ ایران روس کا اتحادی ہے اور ایران کے دشمن روس کے بھی دشمن تصور کیے جا سکتے ہیں، جس سے صورتحال مزید حساس ہو گئی۔
بعد ازاں تمام افراد کو رہا کر دیا گیا، تاہم روس میں اسرائیلی شہریوں کی حراست کے واقعے کے بعد تل ابیب نے اپنے شہریوں کو روس کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کر دی۔
ادھر روس کے سفیر برائے اسرائیل اناتولی وکٹوروف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے ایئرپورٹ بین گوریون ایئرپورٹ کی سخت سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے طریقہ کار میں سختی پائی جاتی ہے۔
یہ واقعہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے اور سفارتی تعلقات پر اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔