پاکستان الیکٹرک گاڑی پالیسی

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کا فیصلہ تیز

پاکستان الیکٹرک گاڑی پالیسی کو تیزی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت دی۔

اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان الیکٹرک گاڑی پالیسی ایندھن کی درآمدات میں کمی اور توانائی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک الیکٹرک موٹرسائیکل اور رکشوں کے لیے 72 مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 4 سرٹیفکیٹس مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے 123 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جو اس شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہیں۔

پاکستان الیکٹرک گاڑی پالیسی کے تحت آئندہ 5 سال میں ملک کی 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے اربوں ڈالر کے ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔

حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان الیکٹرک گاڑی پالیسی نہ صرف ایندھن کی بچت بلکہ ماحولیاتی بہتری اور توانائی کے استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے