صدر پزشکیان کا سخت مؤقف: ایران کے خلاف سازشیں ناکام ہوں گی

ایران اتحاد انتباہ اس وقت نمایاں ہو گیا جب صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک ہر خطرے کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ایران کی اصل طاقت اس کا قومی اتحاد اور مضبوط عزم ہے۔

پزشکیان نے داخلی سیاسی تقسیم کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں نہ کوئی اعتدال پسند ہے اور نہ ہی سخت گیر۔ ان کے مطابق تمام شہری ایک مشترکہ انقلابی شناخت رکھتے ہیں اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایران اتحاد انتباہ کو مزید واضح کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ کوئی بھی جارح اگر ایران کے خلاف اقدام کرے گا تو اسے اس کا سخت جواب ملے گا۔ ان کا یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان اتحاد قیادت کی پیروی پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق سپریم لیڈر ملک کے اتحاد اور استحکام کی علامت ہیں۔

پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ان خیالات کی تائید کی اور کہا کہ ایران میں اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قیادت مکمل طور پر متحد ہے۔

عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی نے بھی ایران اتحاد انتباہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان بیانات کا مقصد بیرونی دعوؤں کا جواب دینا ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اختلافات کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ایرانی قیادت نے ان بیانات کو مسترد کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک ہر سطح پر متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے