فن لینڈ ایٹمی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ قانون سازوں نے ملک میں ایٹمی ہتھیاروں کی درآمد، ملکیت اور نقل و حمل پر عائد پرانی پابندیوں کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
فن لینڈ کی وزارتِ دفاع کے مطابق حکومت نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی ترمیمات پیش کر دی ہیں جن میں ایٹمک انرجی ایکٹ اور فوجداری قوانین میں تبدیلی شامل ہے۔
مجوزہ فن لینڈ ایٹمی پالیسی کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کی درآمد، ترسیل، ذخیرہ اور ٹرانزٹ کو قانونی طور پر اجازت دی جا سکتی ہے، جو دہائیوں پرانی پابندیوں کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی دفاع کو مضبوط بنانا اور نیٹو کے مشترکہ دفاعی نظام میں مزید مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔
وزیر دفاع انٹی ہیکانن کے مطابق یہ نئی فن لینڈ ایٹمی پالیسی ملک کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی ماحول میں تیاری بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔
یہ تبدیلی فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے بعد سامنے آئی ہے، جبکہ ماضی میں 1980 کی دہائی میں لگائی گئی پابندیاں غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے نافذ کی گئی تھیں۔
اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو نئی فن لینڈ ایٹمی پالیسی کے تحت اتحادی طیاروں کو ملک کی فضائی حدود میں ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ پرواز کی اجازت ہوگی اور ایٹمی سامان کی نقل و حرکت بھی ممکن ہو سکے گی۔