نیٹو ایران جنگ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی ہے جب رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل میں نیٹو اتحادیوں کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران جنگ میں امریکہ کی مکمل حمایت نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق ای میل میں مختلف آپشنز زیر غور ہیں، جن میں بعض ممالک کی نیٹو میں حیثیت محدود کرنے اور اسپین کو تنظیم کے بعض اہم کرداروں سے معطل کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، اور امریکہ نے اتحادیوں پر بحری مدد نہ دینے پر تنقید کی۔
نیٹو ایران جنگ کشیدگی کے دوران پینٹاگون نے کہا ہے کہ اتحادی تعاون ایک بنیادی ضرورت ہے، اور بعض ممالک کی جانب سے محدود تعاون پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
امریکی حکام خاص طور پر اسپین کے رویے سے ناراض ہیں، جہاں حکومت نے مبینہ طور پر امریکی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اسپین میں امریکی اہم فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔
ای میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے نیٹو میں ان کے کردار کو محدود کرنے جیسے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم امریکہ کے نیٹو سے نکلنے کی کوئی تجویز شامل نہیں۔
نیٹو ایران جنگ کشیدگی نے مغربی اتحاد کے مستقبل، رکن ممالک کی ذمہ داریوں اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔