خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب صوبائی حکومت نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی اور انتظامی مسائل حل نہ ہوئے تو وفاق سے تعاون ختم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے متعلق مقدمات کی سماعت میں تاخیر جاری رہی تو صوبائی حکومت اپنا مؤقف تبدیل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ہے اور سیاسی دباؤ کے باوجود وفاقی اجلاسوں میں شرکت جاری رکھی ہے، لیکن ان کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی امتیاز برتا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے عمران خان اور ان کے اہل خانہ تک رسائی محدود کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی اور اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے صوبے میں سی این جی کی بندش پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ قدرتی وسائل رکھنے والے علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر ان وسائل کا حق ملنا چاہیے۔
حکام نے خبردار کیا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو وفاق سے تعاون ختم کرنے سمیت سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے باوجود کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور مالی اصلاحات کی منظوری بھی دی تاکہ گورننس کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ صورتحال خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں سیاسی اور وسائل کے معاملات پیچیدگی اختیار کر رہے ہیں۔