بنگلہ دیش آسمانی بجلی کے واقعات نے ملک میں تباہی مچا دی ہے، جہاں شدید موسمی طوفانوں کے دوران کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔ حکام کے مطابق اچانک آنے والے طوفانوں میں تیز بارش اور آسمانی بجلی نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
بنگلہ دیش آسمانی بجلی کے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں پیش آئے، جہاں کسان اور مزدور کھلے میدانوں میں کام کر رہے تھے۔ اچانک موسم کی خرابی نے انہیں بچنے کا موقع نہیں دیا۔
حکام نے بتایا کہ بنگلہ دیش آسمانی بجلی کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ واقعات ملک میں ہر سال پیش آنے والے موسمی خطرات کا حصہ ہیں۔ اپریل سے جون کے دوران بنگلہ دیش آسمانی بجلی کے واقعات زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں کیونکہ موسم غیر مستحکم ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش آسمانی بجلی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کمی ہے۔ بڑے درختوں کی کمی سے آسمانی بجلی کا قدرتی راستہ متاثر ہوا ہے جس سے انسانی نقصان بڑھ گیا ہے۔
بنگلہ دیش نے 2016 میں آسمانی بجلی کو قدرتی آفت قرار دیا تھا کیونکہ اس دوران سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بنگلہ دیش آسمانی بجلی آج بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔
حکام نے شہریوں کو طوفانی موسم میں احتیاط کی ہدایت کی ہے کیونکہ بنگلہ دیش آسمانی بجلی بار بار جان لیوا ثابت ہو رہی ہے اور حفاظتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔