سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے پی چیلنج ایک اہم سیاسی معاملہ بن گیا ہے، جب رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اعلان کیا کہ وہ سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تقرری کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے پی چیلنج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں گورننس کی صورتحال خراب ہو رہی ہے اور عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر صحت کے شعبے میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے پی چیلنج اس لیے ضروری ہے کیونکہ ان کے مطابق اس تقرری کے فیصلے نے پارٹی میں اندرونی تقسیم پیدا کر دی ہے۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ اگرچہ انہیں پہلے پارٹی قیادت کی جانب سے مشورہ دیا گیا تھا، لیکن اب وہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے پی چیلنج کو آگے بڑھائیں گے اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے عدالتوں کے سابق فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تقرریوں سے متعلق قانونی اصول ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے پی چیلنج آئینی اور قانونی بنیادوں پر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی قیادت نے پارٹی کو کمزور کیا ہے اور اگر یہ صورتحال جاری رہی تو پارٹی مزید تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے۔
سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے پی چیلنج سے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں اور پارٹی اتحاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔