تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، ایران امریکہ کشیدگی اثر انداز

تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں اس وقت نمایاں ہو گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور سپلائی کے خدشات بڑھ گئے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے نتیجے میں برینٹ کروڈ تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 108.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

اسی طرح تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی بڑھ کر 96.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جس سے عالمی منڈی میں ہلچل پیدا ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں کمی ہے، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی مارکیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا، جس سے قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

سرمایہ کاری اداروں نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے ہیں، کیونکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے کیونکہ عالمی سیاسی صورتحال غیر مستحکم ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے