پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے چمن سیکٹر افغان طالبان آپریشن کے دوران بلوچستان کے سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر سرحد پار سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کے جواب میں کی گئی۔
حکام کے مطابق چمن سیکٹر افغان طالبان آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب افغان جانب سے فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی سرحدی تحفظ اور شہریوں کے دفاع کے لیے جاری حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آپریشن کے دوران سرشن، المرجان اور ادھی سمیت کئی اہم ٹھکانے نشانہ بنا کر تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا، جس سے مخالف عناصر کو بڑا نقصان ہوا۔
سیکیورٹی حکام نے کہا کہ چمن سیکٹر افغان طالبان آپریشن کے دوران پاک فوج نے انتہائی درستگی اور منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کی تاکہ خطرات کو ختم کیا جا سکے اور سرحدی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی آپریشن غضب الحق کا حصہ ہے جو سرحد پار سے ہونے والی مسلسل اشتعال انگیزی کے بعد شروع کیا گیا تھا اور اب تک جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کریں، تاہم اس پر خاطر خواہ عمل نہیں کیا گیا۔
چمن سیکٹر افغان طالبان آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے، جبکہ پاکستان نے اپنے دفاع اور سرحدی تحفظ کے عزم کو دہرایا ہے۔