پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیا ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع اور ایران امریکا کشیدگی کے پرامن حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔
اقوام متحدہ میں مشرق وسطیٰ سے متعلق مباحثے کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ اور اسرائیلی قبضہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب فلسطینی ریاست قائم ہو اور مقبوضہ علاقوں کا قبضہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے طاقت کے استعمال یا حقوق کی پامالی کو کسی بھی صورت قبول کرنے سے انکار کیا۔
پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر کہا کہ موجودہ صورتحال میں تحمل، بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
سفیر نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان پہلے بھی ثالثی کے کردار میں سرگرم رہا ہے، خاص طور پر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سہولت فراہم کی گئی۔
I told the Security Council that the root cause of instability in the Middle East remains the unresolved question of Palestine and the continued Israeli occupation of the Arab lands. Not the expansionist ambitions; not the suppression of right, not the use of force, it is the…
— Asim Iftikhar Ahmad, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) April 29, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی جاری ہیں تاکہ خطے میں استحکام اور امن کو فروغ دیا جا سکے۔
پاکستان نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی عالمی معیشت اور مختلف ممالک بشمول پاکستان کو متاثر کر رہی ہے، جس کے لیے فوری سفارتی اقدامات ضروری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، جبکہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادکاری اور تشدد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ اور پرامن کوششیں کی جائیں کیونکہ صرف سفارت کاری ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتی ہے۔