اسرائیل نے جاری اسرائیل لبنان مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی سخت ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس مدت میں معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے اس مدت کو “محدود وقت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک حقیقی اور قابل عمل معاہدہ ضروری ہے۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ “ہم غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کر سکتے”، اور اگر دو ہفتوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو جنوبی لبنان میں صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔
اسرائیل لبنان مذاکرات امریکا کی نگرانی میں جاری ہیں، جہاں کوشش کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان اعلیٰ سطح ملاقات ہو سکے، تاہم اس پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔
موجودہ جنگ بندی پہلے محدود مدت کے لیے شروع کی گئی تھی، جسے بعد میں بڑھا دیا گیا، مگر اس کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور صورتحال انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل حزب اللہ کے خلاف بڑے فوجی آپریشن پر غور کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
آئندہ دو ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کہ آیا خطہ امن کی طرف جائے گا یا ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف بڑھ جائے گا۔