آبنائے ہرمز

ٹرمپ کا ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ، جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئیں

ایران امریکا امن معاہدہ کے امکانات اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق امن مذاکرات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش رفت ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ایران امریکا امن معاہدہ کے تحت جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے جیسے اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جس نے خطے اور عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب آ سکتے ہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس سے قبل بھی امن کوششیں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران جلد اس تجویز پر اپنا جواب دے گا۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے ایک ترجمان نے اس پیشکش کو حقیقت سے زیادہ “امریکی خواہشات کی فہرست” قرار دیا، جس سے ایران کے محتاط مؤقف کا اندازہ ہوتا ہے۔

ایران امریکا امن معاہدہ کے ابتدائی مسودے کے مطابق اگر فریقین متفق ہو جائیں تو 30 روزہ تفصیلی مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ اس میں ممکنہ طور پر پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام پر حدود شامل ہوں گی۔

عالمی منڈیوں نے اس پیش رفت پر مثبت ردعمل دیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ جنگ ختم ہونے سے توانائی کی سپلائی بحال ہو جائے گی۔

تاہم ماہرین کے مطابق ابھی کئی اہم اختلافات برقرار ہیں جن میں میزائل پروگرام، علاقائی پالیسی اور یورینیم ذخائر شامل ہیں۔ اس لیے اگرچہ ایران امریکا امن معاہدہ کی باتیں اہم ہیں لیکن حتمی نتیجہ ابھی غیر یقینی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین